سچائی کی طاقت

سچائی کی طاقت
علی ایک چھوٹے سے شہر میں رہتا تھا۔ وہ ایک عام سا طالب علم تھا، جس کے والد ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ احمد نے اپنا ایک اصول بنایاتھا کہ کبھی جھوٹ نہیں بولنا اور جو بھی کام کرنا ہے، ایمانداری سے کرنا ہے۔
ایک دن علی کو اسکول سے واپسی پر ایک بہت ہی قیمتی موبائل ملا۔ اُس نے اُسے اُٹھایا، لیکن اس موبائل کورکھنے کی بجائے فوراً اسکول کے دفتر میں جمع کروا دیا۔ اگلے دن ہی اسکول میں اعلان ہوا کہ جس بچے نے موبائل واپس کیا ہے، وہ بچہ سامنے آئے۔ علی نے اعتراف کیا۔ سب بچے حیران ہو گے۔
وہ موبائل ایک امیر ترین تاجر کے بیٹے کا تھا۔ تاجر نے جب علی کی سچائی دیکھی، تو اس کی دیانت داری سےبہت زیادہ متاثر ہوا۔ اُس نے علی کی پوری تعلیم کا خرچ اُٹھا لیا اور اُسے اسکالرشپ دی۔
چند سالوں بعد، علی ایک کامیاب انجینئر بنا اور پھر اپنے ہی اسکول میں بچوں کو دیانت اور سچائی پر لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا۔
سبق: سچائی وقتی فائدہ نہ دے، لیکن لمبے عرصے میں زندگی بدل دیتی ہے۔
یہ بلاگ اردو میں پڑھیں
